ہاں تو دوستوں آج بات کرتے ہیں جناب شہرہ آفاق، اردو بلاگنگ کی ناک، بدتمیزوں میں مہان، بنتے ہیں گمنام کیا پتہ کھاتے ہوں تمباکو والا پان
جی جی بالکل ہم بات کررہے ہیں۔ موصوف بدتمیز کی
زیک نے پوچھا کہ ہم بدتمیز کے پیچھے کیوں پڑے ہیں؟
تو ہم نے سوچا اور خود سے پوچھا کہ کیوں پڑے ہیں
پھر جب دماغ کے تھوڑا اور اندر جھانکا تو یاد آیا کہ ہاں بدتمیز صاحب نے ہماری ایک درخواست کو بڑی بے دردی سے رد کردیا تھا
پکا نہیں لیکن شاید یہی وجہ ہے کہ ہم نے بدتمیز کے خلاف کچھ زیادہ ہی دھماکے کرڈالے۔
وہ فرمائش تھی اردو ٹیک پر بلاگ ایڈ کرنے کی۔
جس کو جناب شہرہ آفاق بدتمیز صاحب نے یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا کہ پہلے نام بتاؤ
ہماری کھوپڑی سے کسی طرح بھی یہ بات ہضم نہ ہوسکی کہ نام بتانے کا کیا تُک؟
اردو لطائف، اردو ماسٹر، اوراق، بزمِ اردو، تحریر، شکاری، طفلِ مکتب، منظر نامہ، ، میرا جہاں، میرا پاکستان، نوائے ادب، وی لاگ، پاک فیکٹ اور ڈفرستان یہ کون سے بندوں کے نام ہیں؟
کیا ان ناموں کی طرح ہمارا بھی بلاگ کا نام “ہماری سیکرٹ فائل” وینس پر شامل نہیں کیا جاسکتا تھا؟
لیکن یہ بات شاید موصوف کو سمجھ میں نہ آسکی۔
ہمیں تو لگتا ہے کہ اس شخص نے اپنے معدے کو بھر بھر کر اتنا پھلا لیا ہے کہ تمیزداری والی کوئی بات بجائے دماغ میں جانے کے معدے کی طرف منتقل ہو کر مزید وزن بڑھانے کی وجہ بن جاتی ہے۔
شاید قبض کی شکایت بھی رہتی ہو تبھی موصوف کو نئے نئے دورے پڑتے ہیں۔
کہ موصوف ہم تو گئے پردیس پردیسی ہوگئے کی عملی تصویر بنے دیسیوں کے خلاف اول فول بکتے رہتے ہیں۔ پھر شاید حقے کا ایک لمبا کش لے کر یاد آتا ہوگا کہ خود وہ بھی یہیں کی پیداوار ہیں
لیکن موصوف کو کالیوں سے بھی بڑی عقیدت ہے۔ ہمیشہ کسی نہ کسی کالی کے ساتھ گھومتے پھرتے پائے جاتے ہیں۔ اب شاید یہ بولتے گھبراتے یا شرماتے ہیں کہ گوریاں انہیں لفٹ ہی نہیں کراتیں
اور گھر میں رہتے ہوئے تو ان کی بدتمیزیوں کا پوچھیں ہی مت، ذرا سوچیں کہ گھر والے اس بدتمیز کو کیسے برداشت کرتے ہونگے ساتھ میں ان کے بدتمیزی کے سامان یعنی کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کو ہمیں تو لگتا ہے کہ موصوف پر گھر میں کھلے عام ان چیزوں کےاستعمال پر بھی پابندی عائد ہوگی۔ اور موصوف اپنی بدتمیزی دکھانے کے لیے گھر کے کونے کھدروں، باتھ روم یا اسٹور روم کا سہارا لیتے ہوں گے
نام کی طرح جناب کی حرکتیں بھی کافی عجیب ہیں۔
ایک طرف موصوف ہمارے بلاگ پر کمنٹس نہ کرنے کا ارادہ کرتے ہیں اور ساتھ میں دوسروں کو بھی ورغلاتے ہیں۔ اور دوسری طرف ہمارے بلاگ کو دیکھے بغیر ان کی روٹی بھی ہضم نہیں ہوتی
شاید خواب میں بھی ہمارا ہی بلاگ نظر آتا ہوگا۔
اس لیے آئے دن اپنے بلاگ پر ہماری شان میں صفحات سیاہ کرتے رہتے ہیں۔
ہماری باتیں کوٹ کرتے ہیں۔
ہمارا بلاگ بھی کچھ ایسا مشہور ہوا کہ لوگ بوکھلا گئے کہ ہمارا استقبال کیسے کیا جائے اور سوچ میں پڑھ گئے اور پھر سوچ میں ایسے غرق ہوئے کہ ابھی تک سوچ میں ہیں لگتا ہے جیسے سوچ سے ڈائریکٹ سکتے میں پہنچ گئے ہوں۔
اب تو لگتا ہے بلاگ کی نظر اتارنی پڑے گی تاکہ بری نظر سے محفوظ رہا جاسکے
اور بدتمیز کو تو ہمارا شکر گزار ہونا چاہیے کہ نہ کالیوں کے غم میں نہ گوریوں کے، شاعر بنا تو HSF کہ غم میں
ویسے اگر بدتمیز چاہیں تو ہمارے پاس ایسے ایسے مشورے ہیں جن پر عمل کرکے یہ تھوڑی تمیز کو حاصل کرتے ہوئے۔ دماغی طور پر بھی سمارٹ ہوجائیں اور جسمانی طور پر بھی
اب ہم اپنا بوریا بستر سمیٹے ہیں۔
اور آپ لوگ تصور میں بدتمیز کو دیکھیں کہ یہ پوسٹ پڑھتے وقت موصوف کی کیا حالت ہوگی
حاليہ آراء